غاصب کی امامت
سوال
ایک امام جو مدت سے مسجد میں رہتا تھا اس نے پانچ ملزموں پر دعویٰ کیا کہ ان لوگوں نے زمین مسجد معافی خدمت ہوئی ہے یا جبراً گاؤں والوں نے بوائی ہے اور میرے ہل چھڑا دیئے اور یہ کہتا ہے کہ یہ زمین ملک مسجد معافی خدمت نہیں ہے اور زمیندار اہل ھنود سے ہے جس نے زمین مسجد کے نام کی ہے وہ کہتا ہے کہ ملک مسجد معافی خدمت ہے اور امام کہتا ہے کہ میری ہے اس میں مسجد کا کوئی حق نہیں تو اس شخص کے پیچھے یا اس کے بھائی اولاد وغیرہ کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جو شخص مسجد کی ملک کو اپنی ملک بنائے اور دعوئی اپنی ملک کا کرے اور زمین مسجد دبانا چاہے وہ شخص شرعاً فاسق ہے لہذا اس سے بہتر اگر امامت کا اہل کوئی دوسرا شخص مل جاوے تو اس کو امام بنانا چاہئے۔ اس کو امام بنانا مکروہ ہے جب تک وہ پختہ توبہ نہ کرے اسی طرح اس کا بھائی یا اولاد اس کے فعل پر راضی اور اس کے مددگار ہوں تو ان کو بھی امام نہ بنانا چاہئے کے جب تک وہ سچے دل سے توبہ نہ کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔