جو امام سنت نہ پڑھے اس کی امامت
سوال
ہم لوگ گاؤں کے رہنے والے ہیں، ہمارے یہاں پر ایک آدمی نماز پڑھاتا ہے اور عشاء کی سنت نہیں پڑھتا ہے اگر اس کو کہتے ہیں تو یہ جواب دیتا ہے کہ میں کہنے سے نہیں پڑھنے کا اور اذان بھی نہیں دیتا کہتا ہے کہ میرے اوپر واجب نہیں ہے، دریافت طلب یہ ہے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا کہ نہیں؟
جواب
اگر اس کے ذمہ اذان نہیں ہے اس لئے وہ اذان نہیں دیتا تو کوئی حرج نہیں ہے دوسرا آدمی اذان دیا کرے، اگر وہ سنتیں وہاں نہیں پڑھتا ہے اپنے مکان پر یا کسی اور جگہ پڑھتا ہے یالوگوں کے کہنے سے نہیں پڑھتا ہے بلکہ حضرت محمد ﷺ کے فرمانے سے پڑھتا ہے تو کوئی حرج نہیں اس سے اس کی امامت میں نقصان نہیں آتا ہے، اگر وہ سنتیں بالکل نہیں پڑھتا ہے اور نمازیوں کے کہنے سے ضد ہو گئی ہے تو اس کو سمجھا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔