الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تارک نماز کی امامت

سوال

ہمارے گاؤں میں ایک آدمی ہے جس کا کام ذبح وکفن ودفن کا ہے اور اس نے کبھی ہر روز کی نماز اور عیدین کی نماز وخطبہ نہیں پڑھی اور نہ پڑھائی اس پر بھی وہ کہتا ہے کہ عیدین کی نماز پڑھانے والا میں ہوں اور یہ میرا ہی حق ہے اس میں جماعت کا کوئی حق نہیں میرا ہی رائٹ ہے۔ کلکٹر کو فریب دے کر اپنا رائٹ لے کر آیا ہے۔ اس لئے ہم جماعت والے کورٹ میں مقدمہ چلانے والے ہیں کہ پیش امام مسجد کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے یا کہ ملاں کی طرف سے؟ اس باب میں مفصل تحریر فرمائیں۔

جواب

جو ہر روز کی نماز پابندی سے نہ پڑھتا ہو وہ فاسق ہے اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو