سود خور کی امامت
سوال
زید سود کھاتا ہے اور لوگوں کا سامان رہن پہ سود رکھتا ہے اور فال وغیرہ دیکھتا ہے اور لوگوں کی قسمت کا حال بیان کرتا ہے اور کان سے بہرا ہے۔ قرآن مجید غلط پڑھتا ہے تعویذات قیمہ فروخت کرتا ہے۔ زید مذکور بستی کا امام اور قاضی ہے اور معمولی مدرس مذکورہ صفات کا حامل ہو کر زید امامت اور قضاۃ کر سکتا ہے یا نہیں، اس کا جواب قرآن کریم اور احادیث مقطوع وفقہ ائمہ مجتہدین اہل السنت والجماعت کی رو سے عنایت فرماویں۔
جواب
سود کھانا حرام ہے اسی طرح سود پر سامان رکھنا حرام ہے۔ فال دیکھنا بھی منع ہے۔ اور قسمت کا حال خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ ولا تدرى نفس ماذا تكسب غداً الآية لہذا قسمت کا حال بیان کرنا غیب کا دعویٰ کرنا ہے یہ سخت خطر ناک کبیرہ گناہ بلکہ شرک ہے بہرا ہونے میں اس کے اختیار کو کچھ دخل نہیں اس میں وہ معذور ہے اور نہ اس سے امامت وغیرہ نا جائز ہوسکتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔