الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جو امام نماز کی پابندی نہ کرے اس کا حکم

سوال

زید بکر کی مسجد کا امام ہے زید کو مسجد کی طرف سے تنخواہ اور نمازیوں کی طرف سے کھانا پابندی سے ملتا ہے زید زیادہ تر سوتا رہتا ہے یہاں تک کہ نماز کا مقررہ وقت نکل جاتا ہے اور بعض اوقات اپنے ذاتی کاروبار یعنی تجارت کی غرض سے دن بھر غائب رہتا ہے اور لوگ فرداً فرداً نماز پڑھ کر اپنے کاروبار میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ایسی حالت میں نماز پڑھنے والوں کو بوجہ مجبوری امام کے جماعت کا ثواب ملے گا یا اپنی تنہا نماز کا اور اس کا مواخذہ امام سے قیامت میں ہوگا یا نہیں؟

جواب

جب امام تنخواہ لیکر امامت کرتا ہے تو اس کو پابندی لازم ہے عموماً اوقات نماز میں مسجد میں حاضر ہو اور تجارت وغیرہ میں مشغول رہنا اوقات نماز میں اور لوگوں کے واسطے بھی جائز نہیں چہ جائے کہ تنخواہ دار امام کے لئے ایسا شخص حق اللہ اور حق العباد ہر دو کو ضائع کرتا ہے ایسی صورت میں مسجد میں جماعت نہ ہونے کی ذمہ داری امام کے سر ہے مقتدیوں کو چاہئے کہ امام پابندی وقت کا مطالبہ کریں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو