الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

راہن کی امامت

سوال

ایک شخص امام مسجد ہے اور قوم سے راعی ہے اور وہ زمین رہن رکھتا ہے اور بٹائی کے لئے دیا ہے اس کے پیچھے نماز جماعت جائز ہے یا نہیں؟ اور اس امام سے جو دریافت کیا کہ آپ کے پاس زمین رہن ہے تو امام صاحب نے قرآن شریف کی قسم کھائی کہ میرے پاس زمین رہن نہیں اس کے پیچھے پٹواری صاحب حلقہ کے جو کاغذات رجسٹری انتقال دیکھا تو کئی رہن امام صاحب کے نام نکلے اب عند الشرع اس امام کے پیچھے نماز جائز ہے یا کہ نہیں؟

جواب

رہن کی آمدنی مرتہن کو کھانا جائز نہیں امام اگر اس سے باز نہ آئے تو اس کی امامت نا جائز ہے جب کہ اس سے بہتر امامت کے لائق دوسرا اور امام موجود ہو البتہ اگر اس آمدنی کو زر رہن میں منہا کر دے تو درست ہے۔ (۲) اگر واقعی امام نے جھوٹی قسم کھائی ہے اور وہ رہن کی آمدنی لیتا ہے تو جب تک وہ توبہ نہ کرے اس کو امام بنانا مکروہ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو