خطا کی توبہ کے بعد دوبارہ امامت
سوال
ہماری مسجد کے امام صاحب جو کہ بتیس ۳۲ سال سے امامت کرتے ہیں ان سے یہ غلطی ہوئی کہ مسجد کے باہر کچھ خشت پختہ ایک ہندو ٹھیکیدار کی پڑی ہوئی تھی اس میں سے کچھ اٹھا کر حجرہ میں رکھ لی اور ایک دو یوم کے بعد اسی جگہ پر جوں کی توں بغیر تصرف اور بغیر کسی کمی وبیشی کے واپس رکھ دی۔ مہتمم صاحب اور مقتدیوں کو یہ حرکت ناگوار خاطر ہوئی، امام ملازمت سے برطرف ہو گئے، اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کیا اور مقتدیوں سے معذرت چاہی، ان سب حضرات نے معاف کیا اور سب خوش ہو گئے۔
جواب
جب آدمی سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی توبہ کو قبول فرما کر معاف فرما دیتے ہیں، قرآن کریم میں ہے اِنِّی لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ، لہذا صورت مذکورہ میں ان امام صاحب کے پیچھے مقتدیوں کی نماز درست ہوگی ان کا توبہ واستغفار کرنا اور اپنی غلطی کی معافی چاہنا قابلِ قدر ہے۔ حق تعالی استقامت بخشے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔