صحیح گواہی دینے والے کی امامت
سوال
زید اپنے محلہ کی مسجد میں امام ہے۔ اپنی چچی ماں کے انتقال کے بعد ان کے وارثوں کے اندر کسی بات کا جھگڑا بابت جائیداد ہوا۔ تب زید جو محلہ کی مسجد میں امام ہے اس سے کسی نے کہا کہ تم بھی رشتہ دار ہو۔ کورٹ میں گواہی دینا ہوگی۔ تو زید نے کہا ٹھیک جہاں چاہو وہاں گواہی لومگر مجھے جو صحیح معلوم ہے گواہی دوں گا۔ تو بہر حال زید نے کورٹ میں جا کر یہ گواہی دیا کہ مجھے اتناہی معلوم ہے کہ میری چچی اپنی زندگی تک اس جائیداد کو اپنے دخل کرتی رہیں اور زندگی میں کسی کو فروخت کیا یا نہیں مجھے معلوم نہیں۔
جواب
جس قدر واقعہ معلوم ہے اس کی صحیح گواہی کورٹ میں دینے کی وجہ سے امام کی امامت میں کوئی خرابی نہیں آئی بلا شبہ اس کی امامت بدستور صحیح ودرست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔