الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مقتدیوں میں اختلاف ہو تو امام کیا کرے؟

سوال

کسی جگہ ایک مسجد ہے اور ایک امام ہے، لوگ کسی وجہ سے اٹھانوے فیصدی اس کے خلاف ہیں اور دو فیصدی اس کے موافق، دونوں پارٹیوں میں امام کی وجہ سے زبردست فساد ہونے کا اندیشہ ہے ایسے نازک دور میں امام کا اپنا فرض ہے، اس کو اس مسجد میں رہنا چاہئے یا نہیں اور اس فساد کو جو کہ خود اس کی وجہ سے ہونا چاہتا ہے کس طرح روک سکتا ہے؟

جواب

اٹھانوے فیصدی کس وجہ سے اس کے خلاف ہیں اگر اس میں شرعی قباحت ہے تو خود اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔ ایسی حالت میں اس کو لازم ہے کہ امامت سے علیحدہ ہو جائے یا اس شرعی قباحت کو دور کرے۔ اگر اغراض نفسانیہ اور ذاتی کاوشوں کی وجہ سے خلاف ہیں یا وہ اہل باطل ہیں اور امام اہلِ حق میں سے ہے تو خود وہ لوگ گنہگار ہیں، ان کو لازم ہے کہ حرکات سے باز آئیں اور امام کو راضی کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو