جس کی بیوی نہ ہو اس کی امامت
سوال
زید اور اس کے بھائی دونوں ادھیڑ عمر میں ہیں لیکن نہ بیوی ہے نہ بچے ہیں۔ زید کا عذر یہ ہے کہ ماں کی خدمت نہ بیوی کر سکتی ہے نہ اس کے مزاج کو سمجھ سکتی ہے نہ نبھا سکتی ہے اس لئے میں شادی نہیں کرتا۔ لہذا ایسی صورت میں ہماری نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ اور زید کی شادی ہوئی تھی مدت ہوئی بیوی کو مرے۔ ایسی حالت میں کیا امامت کر سکتا ہے؟ اور اگر زید کی شادی ہوئی ہی نہیں تو اس کا ایسی حالت میں امامت کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب
اگر اخلاق وعادات واعمال مطابق سنت ہیں تو ان کی امامت میں یہ چیز مانع نہیں ان کے پیچھے نماز درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔