جس کی بیوی قریبی رشتہ داروں سے پردہ نہ کرے اس کی امامت
سوال
(۱) زید کی بیوی اپنے ماموں اور چچا کے لڑکے سے پردہ نہیں کرتی بلکہ سامنے آتی ہے اور زید اس کو منع بھی کرتا ہے۔ مگر صرف زبان سے منع کرتا ہے اور کوئی تشدد نہیں کرتا تو زید پر بیوی کے پردہ نہ کرنے کا گناہ ہوتا ہے یا نہیں؟ اور زید کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا مکروہ اور زید کو کس قدر تشدد کرنا چاہئے اگر تشدد کرنے سے فساد کا اندیشہ ہو پھر بھی تشدد کرے یا نہیں؟ (۲) اگر زید کی بیوی اور زید کا بھائی عمرو ایک ہی گھر میں رہتے ہوں دوسرے گھر میں رہنے کی گنجائش نہ ہو۔
جواب
(۱) چچا اور ماموں کے لڑکے سے شرعاً پردہ ضروری ہے اگر زید کی بیوی ان سے پردہ نہیں کرتی تو وہ گنہگار ہے اور زید کو منع کرنا ضروری ہے۔ اگر منع نہ کرے گا تو گنہگار ہوگا زید کو تشدد کرنا اور اپنی زوجہ کو پردہ نہ کرنے سے شرعاً مارنا بھی درست ہے اگر نا قابل برداشت فساد کا خیال ہو اور اس وجہ سے زید اپنی بیوی پر تشدد نہ کرے اور بلا تشدد کے وہ نہ مانے تو شرعاً زید پر گناہ نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔