برہمن بچہ کو پال کر امام بنانا
سوال
زید مسلمان ہے اور اس نے بے اولاد ہونے کے سبب ایک ہندو برہمن بچے کو پال پوس کر ایک خاندان کی لڑکی سے شادی کی۔ اس برہمن کی طرف سے دو اولاد ہوئی۔ وہ بھی تعلیم یافتہ رہی تقریباً ۲۲ سال کی ہوئی وہ مسجد کے امام ہونے اور نماز پڑھانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تو ایسے شخص کا امام بنانا کیسا ہے؟
جواب
جس برہمن بچہ کو پرورش کیا اگر وہ مسلمان ہو گیا تھا پھر مسلمان لڑکی سے اس کی شادی کی تب تو کوئی اشکال ہی نہیں۔ اس سے پیدا شدہ اولاد میں جب اوصاف امامت موجود ہوں تو ان کی امامت درست ہے۔ اگر وہ برہمن بچه (خدانخواستہ) مسلمان نہیں ہوا تھا، اس حالت میں اس کی شادی مسلمان لڑکی سے کر دی گئی تو یہ شادی سخت معصیت ہوئی۔ یہ شرعی نکاح نہیں بلکہ زنا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔