فاجرہ کے شوہر کی امامت
سوال
ایک شخص کی بیوی دوسرے آدمی کے ساتھ چلی گئی اور کافی عرصہ اس کے پاس رہی، اس عرصہ میں اس عورت سے ایک بچہ اغوا کنندہ کا پیدا ہوا ہے بعدۂ اس کا خاوند عورت مذکورہ کو لایا اور اپنے گھر عورت مذکورہ کو آباد کر لیا۔ کیا اس عورت کا خاوند امام بن سکتا ہے یا نہیں؟ نیز اس کا خاوند یہ بھی کہتا ہے کہ عورت تائب ہو گئی ہے۔ بالدلیل بیان فرمایا جائے۔
جواب
اگر عورت فاجرہ ہو اور شوہر اس کے فجور سے رضا مند نہ ہو بلکہ اس کو منع کرتا ہوا اور عورت باز نہ آتی ہو تو اس کا گناہ شوہر پر کچھ نہیں اور شوہر کے ذمہ ایسی عورت کو طلاق دینا واجب نہیں۔ ”لہ امرأة فاسقة لا تنزجر بالزجر لا يجب تطليقها كذا في القنية اھ عالمگیری ص ۳۷۲ ج ۵ لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة اھ درمختار ولا عليها تسريح الفاجر الا اذا خافا ان لا يقيما حدود الله فلا بأس ان…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔