ایسے شخص کی امامت جس کی بیوی بے پردہ ہو
سوال
ایک حافظ اور اس کی بیوی بے پردہ ہو کر بازار میں دوکان لگا کر مال کی خریدو فروخت کرتے ہیں اس حافظ کے پیچھے نماز فرض یا تراویح درست ہے یا نہیں۔ اگر درست ہے تو کن شرائط کے ساتھ؟
جواب
اگر اس حافظ کی بیوی شرعی طور پر پردہ نہیں کرتی اور وہ بے پردگی سے نہیں روکتا بلکہ اس کے اس فعل سے خوش ہے اور اس سے بہتر امام کا اہل دوسرا شخص موجود ہے تو ایسی حالت میں اس حافظ کو امام بنانا مکروہ ہے کیوں کہ ایسا شخص شرعاً فاسق ہوتا ہے۔ اگر وہ بے پردگی سے روکتا ہے اور بیوی نہیں مانتی تو امامت مکروہ نہیں۔ ویکرہ امامة عبد واعرابي وفاسق (تنوير ج ۱ ص ۵۸۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔