صف ٹیڑھی ہو تو کیا کیا جائے؟
سوال
ایک قدیم مسجد ہے جس میں صفیں کچھ ٹیڑھی بچھائی جاتی ہیں رخ صحیح نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں معلوم کرنا ہے کہ نماز میں عین قبلہ ضروری ہے یا جہت قبلہ۔ اور قطبین پر جو مساجد ہوں وہ صحیح اور جو اس کے تھوڑے فرق پر ہوں وہ غیر صحیح۔ یہ قطب تارے شرعاً حجت ہیں یا نہیں؟ اگر اس مسجد میں صفیں قطب تارے کے رخ پر بچھاتے ہیں مسجد سے کافی جگہ نکل جاتی ہے اور جگہ کی تنگی ہے تو اب کیا کریں، آیا جہت کعبہ پر عمل کریں یا سمت کعبہ پر نقشہ ذیل میں ہے۔ مسجد میں صرف اتنا فرق ہے۔
جواب
بہتر یہ ہے کہ کسی عالم تجربہ کار کو جو کہ سمت قبلہ معلوم کرنے میں ماہر ہو، بلا کر معائنہ کرا دیا جائے کہ اتنا تفاوت قابل تسامح ہے یا نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔