مسجد کے دروں میں صف بنانا
سوال
زید اس بات پر مصر ہے کہ جس طرح امام کا محراب مسجد اور درہائے مسجد میں کھڑا ہونا مکروہ ہے، اسی طرح مقتدی کا بھی درہائے مساجد میں کھڑا ہونا مکروہ ہے، حالانکہ کتب فقه شرح وقایہ، ہدایہ، عالمگیری، در مختار، ردالمختار وغیرہ میں صرف امام ہی کے لئے مکروہ تنزیہی تحریر ہے۔ مقتدی کیلئے کوئی قید نہیں۔ لیکن زید اس امر پر مصر ہے کہ اندر کے صحن میں دو صف پوری ہو چکیں۔
جواب
اگر زید کو صرف اس امر کا ثبوت درکار ہے کہ بوقت ضرورت مقتدیوں کو درہائے مساجد میں کھڑا ہو کر پانچ آدمیوں کی چھوٹی چھوٹی صفیں بنا کر نماز پڑھنا درست ہے تو اس کا مبسوط سرخسی میں جزئیہ موجود ہے۔ والاصطفاف بين الاسطوانتين غير مكروه لانه صف في حق كل فريق وان لم يكن طويلاً وتخلل الاسطوانة بين الصف كتخلل متاع موضوع او كفرجة بين رجلين وذلك لا يمنع صحة الاقتداء ولا يوجب الكراهة اھ مبسوط…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔