عورتیں کیا مردوں کی جماعت میں شریک ہوں؟
سوال
کچھ برقعہ پوش مستورات بھی جماعت میں ایک خاص جگہ مردوں سے دور جماعت میں شامل ہوتی ہیں درمیانی فاصلہ کم سے کم بارہ صفوں کا ہوتا ہے جمعہ کی نماز میں درمیانی فاصلہ کا نمازیوں سے پر ہونا ممکن ہے مگر روز مرہ کی نمازوں میں صفوں کا اتصال خارج از امکان ہے لہذا عورتوں کا شامل نماز ہونا اس صورت میں عملاً ممکن ہے کہ وہ امام اور مرد مقتدیوں سے اتنے زیادہ فاصلہ پر الگ تھلگ کھڑی ہوں کیا اس غیر معمولی خلاء کی موجودگی میں عورتوں کی جماعت صحیح ہو سکتی ہے اور امام کے پیچھے صورت مسئولہ میں ان کی اقتداء درست ہے؟
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔