الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ايضاً / وقت مقررہ کے بعد نمازیوں کا انتظار

سوال

مسجد میں اوقات اذان وجماعت مقرر کر دئیے گئے ہیں، اور مابین اذان وجماعت نصف گھنٹہ کا وقت فاصل متعین ہے تا کہ لوگ آسانی سے حاضر ہو کر شرکت کر سکیں مگر با وجود اس کے بعض حضرات تاخیر سے تشریف لاتے ہیں، اور اقامت جماعت کے وقت وضو ہی کرتے رہتے ہیں، تو اس حالت میں کیا امام پر فرض ہے کہ ان لوگوں کا منتظر ہو؟

جواب

اگر وقت مقررہ پر اکثر نمازی آگئے اور ایک دو شخص ہی نہیں آئے تو امام کو انتظار فرض نہیں، بلکہ مکروہ ہے لیکن اگر وہ شریر اور فتنہ پرور ہوں تو دفع فتنہ کے واسطے انتظار کرنے میں مضائقہ نہیں بشرطیکہ وقت میں بھی گنجائش ہو رئیس المحلة لاينتظر مالم يكن شريراً والوقت متسع شامى باب الاذان فلو انتظر قبل الصلواة ففى اذان البزازية لو انتظر الاقامة ليدرك الناس الجماعة يجوز ولواحد بعد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو