ايضاً
سوال
اگر امام کو نماز میں سہو ہوا مگر سجدہ سہو نہیں کیا، جب نماز دوہرانے لگا تو مسبوقین نے نماز توڑ دی اور جماعت ثانی میں شامل ہو گئے، ایک مسبوق نے اپنی نماز پوری کر کے شرکت کی مگر سجدہ سہو نہیں کیا، جو کہ امام پر واجب تھا، ایک مسبوق نے نماز بمعہ سجدہ سہو ادا کی، پھر جماعت ثانیہ میں شریک ہوا تو ان مسبوقین کی نمازیں صحیح ہوئیں یا نہیں اگر نہیں تو ان کو کیا کرنا چاہئے؟
جواب
اگر امام کو نماز میں ایسا سہو ہوا جس کی وجہ سے نماز باطل نہیں ہوتی، بلکہ سجدة سہو واجب ہوتا ہے، اور پھر امام نے سجدہ سہو نہ کیا بلکہ اعادہ کیا تو ان مسبوقین کی نماز صحیح ہوگئی، جو اپنی نماز پوری کر کے بلا سجدہ سہو کئے ہوئے امام کے ساتھ شریک ہو گئے اور ان کی نماز مع الکراہت صحیح ہوئی، جنہوں نے نماز پوری کی اور سجدہ سہو کیا پھر امام کے ساتھ شریک ہو گئے، کیونکہ اگر امام سجدۂ سہو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔