اپنی مسجد کو راستہ کی مسجد پر فوقیت ہے
سوال
اگر کوئی شخص کسی کام کی وجہ سے کہیں جائے اور اپنے کام سے فارغ ہو کر وہ اپنے گھر واپس ہوتا ہے (گھر کے پاس مسجد ہی کا وہ مقامی نمازی بھی ہے) راستے میں اذان ہوگئی اور اس شخص کے پاس اتنا وقت ہے اور اسے یقین ہے کہ اگر وہ اپنی مقامی مسجد میں پہنچ جائے تو اس کو جماعت مع تکبیر اولیٰ کے مل جائے گی تو کون سی مسجد میں نماز پڑھنا أفضل ہے اس مسجد میں جہاں پر کہ راستہ میں اذان ہوئی یا اس میں جس کا وہ مقامی نمازی ہے اس کا جواب مرحمت فرمائیں۔
جواب
جب اپنی مسجد میں پہنچ کر تکبیر اولی سے جماعت مل جائے گی تو محض راستے میں کسی مسجد کی اذان سن کر اپنی مسجد چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔