الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اجتماعی عبادت انفرادی عبادت سے ہر جگہ أفضل نہیں

سوال

انفرادی عبادت سے اجتماعی عبادت أفضل واعلیٰ ہے یا نہیں اکثر لوگ عام طور سے ہر جگہ جماعت سے نماز پڑھ لینے کے بعد دعا مانگتے ہیں اس طرح کہ امام دعا پڑھتے جاتے ہیں اور مقتدی آمین کہتے جاتے ہیں جس کو عرف میں دعا ثانی کہا جاتا ہے یہ دعا ثانی ہیئت مذکورہ میں مانگنا شریعت میں کس درجہ کا گناہ ہے اور دعا ثانی مانگنے والا گنہ گار ہے یا کہ نہیں اور اس سے رک جانے والے یا روک دینے والے کے متعلق کیا اجر وثواب ہے؟

جواب

اجتماعی عبادت انفرادی عبادت سے ہرگز أفضل نہیں بلکہ جس جگہ اجتماع کی ترغیب ہے وہاں أفضل ہے مثلاً عیدین اور نصف شعبان کی شب بیداری اور اس میں عبادات نوافل و تلاوت وغیرہ کی ترغیب آتی ہے اور فقہاء نے اس کو مستحب کہا ہے لیکن راتوں میں تہجد وغیرہ میں اجتماعی عبادت کو مکروہ قرار دیا ہے چنانچہ شرنبلالی ص ۲۱۸ میں فرماتے ہیں ” و ندب احياء ليلتي العيدين وليالى عشر ذي الحجه وليلة النصف من…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو