نوافل کی نماز جماعت سے
سوال
صلوۃ کسوف تراویح اور استسقاء کے علاوہ دیگر نوافل کو بتداعی با جماعت ادا کرنا مکروہ ہے، تداعی سے مراد چار آدمی مقتدی کا ہونا ہے جیسا کہ شامی وغیرہ میں مذکور ہے یہ حکم رمضان اور غیر رمضان دونوں کے لئے ہے یا فقط غیر رمضان کے لئے؟ خصوصاً رمضان شریف میں تہجد واوابین کو باجماعت پڑھنا مکروہ ہے یا نہیں؟ اور بعض کتب فقہ میں ہے کہ تداعی سے مراد اذان واقامت ہے اس تقدیر پر بدون اذان واقامت کے تہجد وغیرہ نوافل کی جماعت مکروہ ہوگی یا نہیں؟
جواب
ان کی جماعت بدستور مکروہ ہے مسجد میں جماعت ثانی کو علی سبیل التداعی مکروہ لکھا ہے۔ اس کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اذان واقامت کے ساتھ ہو، چنانچہ بعض کتب فقہ میں علی ہیئۃ الاولیٰ کا لفظ ہے اس پر بعض حضرات نے تصریح کی ہے کہ بلا اذان واقامت کے اور محراب سے الگ ہو کر زاویہ مسجد میں دو تین آدمی جماعت کرلیں تو اجازت ہے تا کہ فضیلت جماعت سے محروم نہ ہو جا ئیں فرض نماز کے لئے جماعت بعض…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔