تشہد میں السلام علیک پر کیا نیت کرے
سوال
جوہرۃ النیرہ میں ایک مرتبہ دیکھا تھا کہ تشہد میں السلام علیک کہتے وقت حکایتہ صلوۃ کا خیال ہونا چاہئے جو معراج میں ہوئی تھی، شامی میں اس کے برخلاف لکھا ہے، کہ انشاء صلوة مد نظر رہنا چاہئے اور اخبار اور حکایت نہیں، ان دونوں قولوں میں کون صحیح ہے؟ دوسرے یہ کہ انشاء صلوۃ کی صورت حضور صلى الله عليه وسلم کو خطاب بالواسطہ ہوگا یا بلا واسطہ اگر بالواسطہ ہوگا تو اس کی تصریح کہاں ہے، اور اگر بلا واسطہ ہے تو کیا حضور حاضر بھی ہیں، صاحب جوہرہ کون ہیں ان کے ہمنوا اس مسئلہ میں کون کون ہیں؟
جواب
شامی کا قول أقرب معلوم ہوتا ہے خطاب حاضر ناظر جان کر نہیں بلکہ اس اعتقاد کے ماتحت ہے کہ ملائکہ کے ذریعہ سے پیش کیا جائے جیسا کہ خط میں کسی کو خطاب کیا جاتا ہے، اور یہ عقیدہ نہیں ہوتا کہ مکتوب الیہ حاضر ہے بلکہ یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ ڈاک کے ذریعہ سے یہ خط مکتوب الیہ کے پاس پہنچ جائے گا، حدیث شریف میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ مقرر فرمارکھے ہیں جو درود وسلام پہنچاتے ہیں،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔