ہیئت سجدہ مرد اور عورت کے لئے
سوال
میں نے عرض کیا تھا کہ بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ سجدہ کے وقت ہاتھ پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھے مگر پاؤں کھڑے نہ کرے بلکہ داہنی طرف نکالدے، انتھی ایضاً جب دوسرا سجدہ کر چکے تو بائیں چوت پر بیٹھے، انتھی پہلے مسئلہ میں بحر کا حوالہ ہے ” انها لا تنصب اصابع القدمین “آپ نے جواب ارسال فرمایا ہے: بحر والی عبارت طحطاوی سعایہ وغیرہ میں بھی موجود ہے اس کے خلاف فقہ حنفیہ میں بھی کوئی جزئیہ نہیں دیکھا مگر پاؤں داہنی طرف نکالنے کی تصریح بھی نہیں مل سکی لیکن پاؤں نہ کھڑے کرنے کی تصریح بہت سی کتابوں میں ہے ” والمرأة مستثناة من…
جواب
جلسہ بین السجدتین کی کیفیت حنفیہ کے نزدیک ایسی ہے جیسی جلوس تشہد کی ہے یعنی مرد کے حق میں داہنا پیر کھڑا کر کے بائیں پر بیٹھنا اور عورت کے حق میں تو ک کرنا بہشتی زیور میں اس کی کیفیت ذکر نہیں کی صرف اس قدر لکھا ہے کہ پھر اللہ اکبر کہتی ہوئی اٹھے اور خوب اچھی طرح بیٹھ جاوے، تب دوسرا سجدہ اللہ اکبر کہہ کر کرے، لیکن سعایہ کی عبارت منقولہ میں اس کی تصریح موجود ہے، لہذا عورت جلسہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔