الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عورت کے لئے سجدہ اور جلسہ کی ہیئت

سوال

عورت کی نماز میں بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ سجدہ کے وقت ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھے مگر پاؤں کھڑے نہ کرے بلکہ داہنی طرف نکالدے انتہی ایضاً جب دوسرا سجدہ کرے تو بائیں چوتڑ پر بیٹھے، انتہی پہلے مسئلہ میں بحر کا حوالہ ہے ”انها لا تنصب اصابع القدمین ۱۲ مجھ کو یہ علم تھا کہ پہلے سجدہ میں بائیں پیر پر بیٹھے اور دایاں پاؤں مثل مرد کے کھڑا رکھے اور خوب سمٹ کر اور دبکر سجدہ کرے، اگر بقول مولانا پاؤں دائیں طرف نکالدے گی تو تورک کی صورت ہوگی جو تشہد کے سوا نہ چاہئے کہ بائیں پاؤں پر بیٹھے اور دایاں پاؤں کھڑا نہ…

جواب

بحر والی عبارت طحطاوی شامی سعایہ میں بھی موجود ہے اس کے خلاف فقہ حنفیہ میں کہیں نہیں دیکھا اگر چہ پاؤں داہنی طرف نکالنے کی تصریح کہیں نہیں ملی لیکن پاؤں نہ کھڑے کرنے کی تصریح بہت سی کتابوں میں ہے ”والمرأة مستثناة من امر النصب لما ان الاحب في حقها ماهو استرلها كما يفهم من الروايات الاخر كما رواه أبو داؤد مرسلاً اھ الكوكب الدري، ج ۱ ص ۱۳۶/ جو کیفیت عورت کے سجدہ کی فقہاء نے بیان…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو