سجدہ میں الصاق کعبین
سوال
العرف الشذى، ص ” ۱۳۴ / باب ما جاء في التسبيح في الركوع والسجود“ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے ”الرص بین العقبين في السجدة اى ضمهما الخ“ اس “الرص، بمعنی الضم “سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایڑیاں صرف سجدہ میں ملائی جائیں اور پنجے الگ رہیں، اس ملانے کی حیثیت صرف مستحب کی ہوگی، یا سنت کی، ورنہ اگر کوئی نہ ملائے جیسا کہ عام معمول ہے، تو نماز پر کیا أثر ہو گا، خلاف ادبی یا کراہت؟ فقہ کی جو کتابیں عموماً پڑھائی جاتی ہیں، اس کا ان میں تذکرہ نہیں ملتا، وجہ بظاہر سمجھ میں نہیں آتی۔
جواب
چونکہ حالت سجود میں بھی الصاق کعبین کا حکم ہے ”إذا كان السنة في الركوع الصاق الكعبين ولم يذكروا تفريجهما بعده فالاصل بقاء هما ملصقين في حالة السجود ايضاً، الشامى، ج ۱ص ۳۳۲، اور الصاق كعبين ضم عقبین کو مستلزم ہے اس لئے اسکے بغیر الصاق کعبین کما حقہ نہیں ہوگا، اور جو چیز سنت کے لئے معین بنے وہ کم از کم استحباب کے درجہ میں ہوگی خصوصاً جبکہ روایت مذکورہ فی السوال میں اس کی تائید…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔