سجدہ میں جاتے وقت گھٹنوں پر ہاتھ ٹیکنا
سوال
قومہ سے جاتے ہوئے ہاتھوں کو کس ہیئت پر رکھا جائیگا، آیا وضع الیدین علی الرکبتین پر عمل کیا جائیگا یا ارسال یدین پر عمل کیا جائے گا، نیز بہشتی زیور کی عبارت کہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے ہوئے سجدہ میں جائے اس پر نہ کوئی حاشیہ اور نہ کسی حدیث صحیح سے ثابت ہے، نیز فقہاء کرام نے بھی اس مسئلہ سے کوئی تعرض نہیں کیا، کسی فقہی کتاب سے یہ مسئلہ ثابت نہیں پھر علماء ہند حالت مذکورہ میں وضع کو مستحب اور علماء پاکستان ارسال کو افضل کیوں بتاتے ہیں جیسا کہ احسن الفتاویٰ کی عبارت سے ظاہر وباہر ہے، پس وضع یا ارسال اگر کسی صحیح حدیث سے…
جواب
صراحۃً یہ جزئیہ کسی کتاب میں نہیں دیکھا، معمول یہ ہے کہ ہاتھوں کو رانوں اور گھٹنوں پر رکھ کر یعنی سہارا لے کر قومہ سے سجدہ میں چلے جاتے ہیں، جیسے کہ سجدہ سے اٹھ کر رانوں اور گھٹنوں پر سہارا لے کر کھڑے ہوتے ہیں،” ويمكن ان يشم رائحة الاستدلال من حديث استعينوا بالركب اھ الجامع الصغير“
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔