سجدہ میں دونوں گھٹنوں کو ملا کر رکھنا
سوال
علم الفقہ (مصنفہ مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی) میں نماز کی سنتوں کے بیان میں ہے کہ سجدے کی حالت میں دونوں گھٹنوں کو ملاکر (جوڑ کر) رکھیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا واقعی مسنون ہے؟ آج تک میں نے کسی کتاب میں بھی نہیں دیکھا اور نہ کسی عالم سے سنا۔
جواب
جوڑ کر یا ملا کر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کو ایک ساتھ رکھے، یہ نہ کرے کہ مثلاً ایک گھٹنا داہنا پہلے رکھے اور دوسرا (بایاں) بعد میں رکھے اور یہ کتب فقہ میں موجود ہے کہ دونوں گھٹنے ایک ساتھ رکھے جائیں، اس کو لفظ ملا کر سے تعبیر کیا ہے ” لا تيامن في وضع الركبتين، شامی
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔