الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز میں متعدد امور کی کوتاہی

سوال

وہ ارکان جن کی ادائیگی دانستہ طور پر اس طرح کی جاتی ہے، اور اب ایک رواج کی صورت تک پہنچ چکی ہے۔ (۱) قومه صحیح ادا نہ کرنا، رکوع سے حسب سابق سیدھا کھڑا نہ ہونا، اور سجدہ میں چلے جانا۔ (۲) جلسہ صحیح ادا نہ کرنا، پہلے سجدہ کے بعد حسب سابق سیدھا نہ بیٹھنا اور فوراً دوسرے سجدہ میں چلے جانا۔ (۳) دوران نماز خصوصاً قیام میں بار بار کھانسنا، بار بار ہاتھ اُٹھا کر کسی جگہ کھجلانا، کپڑے سمیٹنا۔ (۴) التحیات میں بیٹھتے ہی دونوں ہاتھوں سے قمیص کے دامن کو بھینچ کر درست کرنا (۵)

جواب

ان جملہ امور میں احکام شرعی کی رعایت لازم ہے، بعض کے ارتکاب میں کراہت ہلکی ہے، بعض میں شدید ہے بعض میں فساد نماز کا بھی مظنہ ہے، نماز ام العبادات ہے، تھوڑی سی بے توجہی اور غفلت سے اس کو ناقص اور فاسد کر دینا بڑا خسارہ ہے، اپنے عمدہ لباس پر معمولی دھبہ برداشت نہیں کیا جاتا، جو فریضہ اور تحفہ حق تعالیٰ شانہ کی بارگاہ عالی میں پیش کیا جائے اس کو بہتر سے بہتر طریقہ پر ہر قسم کے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو