الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رکوع میں جاتے وقت پائجامہ اوپر کرنا

سوال

ایک حافظ قرآن عالم دین مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے ہیں، دیکھا گیا کہ ان کا پائجامہ ٹخنوں سے اوپر ہوتا ہے، البتہ بوقت رکوع ٹخنوں سے نیچے ہو جاتا ہے، بر بناء احتیاط امام صاحب موصوف ٹخنے والا حصہ قدرے اوپر کر لیتے ہیں، کیونکہ ٹخنے چھپ جانے پر احادیث مقدسہ میں سخت وعید وارد ہوئی ہیں، نیز کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کورے کپڑے کا کرتہ پائجامہ دھلنے کے بعد چھوٹا ہونے کے خیال سے اکثر بڑھا کر سلوائے جاتے ہیں، بہر کیف : مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں بوقت ضرورت ٹخنے والا حصہ تھوڑا سا اوپر کر لیا جائے تو آیا اس سے نماز…

جواب

جبکہ امام صاحب پائجامہ اوپر باندھتے ہیں تاکہ ٹخنے نہ ڈھکنے پائیں، تو اس سے نماز میں کراہت نہیں، حرکت خفیفہ سے اگر پائجامہ اوپر کر لیا جائے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔ (۲) جبکہ کراہت کی کوئی وجہ نہیں ہے تو جماعت ترک کر کے الگ نماز پڑھنا غلط طریقہ ہے۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو