بغیر تحری خلاف قبلہ نماز دہرانی ہوگی
سوال
کسی شخص نے شمال کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لی اور اس کو اس بات کا یقین تھا کہ پچھتم ادھر ہی ہے اس لئے تحری نہیں کی، کیونکہ تحری کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے، جبکہ قبلہ کے مشتبہ ہونے کا علم ہو، اور فارغ ہونے کے بعد اسے اپنی خطا کا علم ہو گیا تو اب اس پر اس نماز کا لوٹانا واجب ہوگا یا نہیں؟
جواب
ایسی نماز کا لوٹانا ضروری ہے، جیسے اگر کوئی شخص پانی کو پاک سمجھتے ہوئے وضو کر لے یا کپڑا نا پاک تھا، ایسی نماز کا اعادہ لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔