قبلہ کا رخ معلوم نہ ہو تو تحری کا حکم
سوال
قبلہ کا رُخ معلوم نہیں تھا تحری کر کے نماز پڑھی گئی، خالد صاحب بعد میں آئے، انہوں نے دیکھتے ہی کہا کہ رخ غلط ہے، ان کے پاس قطب نما تھا، قطب نما سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ٹھیک ما بین شمال ومغرب نماز پڑھی گئی تھی، آیا اس نماز کو دہرانے کی ضرورت تھی یا نہیں؟ کیونکہ بعض علماء کہتے ہیں کہ قبلہ کا رخ یہاں سے مابین گوشہ شمال ومغرب وگوشہ جنوب ومغرب ہے، ان کے درمیان کس رخ پر نماز پڑھیں؟ بعض علماء کا یہ قول صحیح ہے یا غلط؟
جواب
جب قبلہ رخ معلوم نہیں تھا اور کوئی بتانے والا بھی نہ تھا تحری کر کے نماز پڑھ لی تو وہ نماز درست ہوگئی اگر چہ بعد میں معلوم ہوا کہ غلط رخ پر پڑھی گئی، اس کا دہرانا لازم نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔