چلتی گاڑی میں قطب نما کی طرف توجہ
سوال
چلتی گاڑی میں نماز شروع کرنے سے پہلے قطب نما سے سمت قبلہ دیکھ لیا اور پھر سمت شمال یا جنوب کو ہو گئی تو نماز ہو گئی یا نہیں؟ یا قطب نما کھول کر رکھ لیں اور جدھر قبلہ ہو گھومتے جائیں، اس صورت میں توجہ قطب نما کی طرف ہوگی تو کیا نماز میں نقص ہوگا؟
جواب
اگر ابتداء قطب نما دیکھ کر صحیح رخ پر نماز پڑھ لی تو نماز ہوگئی جب تک درمیان میں رخ بدل جانے کا ظن غالب حاصل نہ ہو اگر قطب نما کھول کر سامنے رکھ لیا جائے، اور وقتا فوقتا اس پر بھی نظر پڑتی رہے تب بھی نماز ہو جائے گی، اس پر گاہے گاہے نظر پڑنے سے نماز فاسد نہیں ہوگی، ہاں توجہ میں کچھ فرق آئے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔