سمت قبلہ، گاڑی میں ہو تو کیا کرے
سوال
ریل گاڑی یا اور کسی قسم کی سواری پر اگر چہ صحیح قبلہ رخ ہو کر نمازی نے نماز کی نیت باندھی ہو اور پھر سورای کا رخ بدلنے سے نمازی نے بھی اپنا رخ ٹھیک کر لیا ہو، یا اس کو نماز میں سواری کے گھومنے کا پتہ نہ لگا اور نہ رُخ سیدھا کیا، تو کیا سواری سے اتر کر اس نماز کا یا ان تمام نمازوں کا اعادہ کرنا لازمی ہو گا؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں گاڑی کا رخ بدلنے سے جب اپنا رُخ بھی صحیح کر لیا (قبلہ رخ) تو نماز ہو گئی، اعادہ کی ضرورت نہیں اور جب اپنا رخ صحیح قبلہ کی طرف قدرت کے باوجود نہیں کیا تو نماز نہیں ہوئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔