بلا وضو اذان کی وعید
سوال
ایک مؤذن روزانہ پانچوں وقت کی اذان بغیر وضو کے دیتا ہے، جب اس کا جی چاہے تو وضو بھی کر لیتا ہے لیکن اکثر بغیر وضو کے اذان دیتا ہے تو کیا شریعت مطہرہ میں اس کی اجازت ہے کہ بغیر وضو کے اذان پر دوام کیا جائے اور کیا شخص مذکور کو فاسق کہہ سکتے ہیں امید ہے کہ جواب با حوالہ عنایت فرمایا جائے۔ نوٹ: - اور مؤذن کا یہ عمل عمدا اور معمولاً بلا وضو اذان دینے کا ہے، لوگوں کے سمجھانے کے بعد بھی وہ اس فعل سے باز نہیں آتا۔
جواب
ويكره اقامة المحدث وأذانه لما روينا (مراقى الفلاح) (إلى قوله) وإن صح عدم كراهية المحدث وهو ظاهر الرواية والمذهب قوله واذانه لما روينا) من قوله ﷺ لا يؤذن الا متوضئ (طحطاوي على مراقي الفلاح ص ۱۱۸ مؤذن کا بلا وضو اذان دینے پر دوام کرنا اس حدیث کے خلاف ہے، اس کو ڈرنا چاہیے اور اس فعل سے بچنا چاہیے، تا ہم اس کو فاسق کہنے سے بھی احتیاط کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔