بحالت نشه اذان ونماز
سوال
ایک مسلمان جو شراب پینے کا عادی ہے مگر اتنی نہیں پیتا ہے کہ مدہوش ہو جائے اپنے ہوش وحواس میں رہتا ہے یہ ہے کہ کوئی شخص بات چیت کرے تو تمیز نہیں کر سکتا ہے کہ یہ شراب پیئے ہے نماز کا جب وقت ہوتا ہے تو باقاعدہ وضو کر کے نماز ادا کرتا ہے اور اکثر مسجد میں اذان بھی دیدیا کرتا ہے۔ تو براہ کرم تحریر فرمائیے کہ ایسے شراب پیئے ہوئے شخص کو ایک مسلمان نماز پڑھنے سے اس کو ایسی حالت میں روک سکتا ہے یا نہیں؟ اور اذان دینے پر منع کر سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
شراب پینا حرام ہے۔ لیکن اگر اس سے نشہ نہ ہو ہوش وحواس درست رہیں تو اس حالت میں ایسے شخص کو نماز پڑھنے سے نہیں روکنا چاہئے جب کہ وہ با قاعدہ وضو کر کے نماز ادا کرتا ہے اور کوئی بات ایسی نہیں کرتا جو کہ احترام مسجد اور احترام نماز کے خلاف ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔