اذان میں غلطی کی وجہ سے اس کا اعادہ
سوال
(ألف) اذان میں أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ میں موذن نے أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدُ الرَّسُول اللہ پڑھا تو اذان فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟ (ب) ایسی اذان کا اعادہ کرنا چاہیے یا نہیں؟ (ج) ایسی غلط اذان پر مؤذن گنہ گار ہوگا یا نہیں؟ جب کہ وہ معنی نہیں سمجھتا اور محض نادانی اور جہل کے باعث غلط پڑھتا ہے۔ (د)
جواب
اس طرح اذان میں پڑھنا نا جائز اور غلط ہے۔ مؤذن کو چاہیے کہ اذان کے کلمات کو صحیح کرے اگر وہ بالقصد اس طرح پڑھتا ہے تو گنہ گار ہے اگر وہ صحیح طریقہ سے اذان کے کلمات کو ادا نہیں کر سکتا ہے تو اس کو چاہیے کہ اذان کہنے سے احتراز کرے اگر وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے اور غلط اذان کہنے سے باز نہ آئے اور دوسرا شخص صحیح اذان کہنے والا موجود ہو تو پھر اس دوسرے شخص کو اذان کے لیے متعین…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔