الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اذان ترنم کے ساتھ

سوال

آج کل ہمارے یہاں نو جوانوں کو اذان دینے کا شوق اس قدر ہو گیا ہے کہ ایک وقت کی بھی بانگی صاحب کے حصے میں آتی نہیں ہے لیکن یہ نوجوان اذان کے ہر کلمہ کے یعنی کلمات اذان جملہ کے اخیر میں اس قدر آ/آ/آ/آ/آ/آ/آ/ آ /اور ان الفاظ میں چڑھاؤ اتار کا موسیقی ترنم لگاتے ہیں کہ ہر جملہ سے تین چار گنا وقت کھینچ کر سامعین کو پریشان کرتے ہیں، گھڑی کا شمار چھ سے سات منٹ سے بڑھ جاتی ہے لہذا اس ترنم والی موسیقی اذان دینے میں از روئے شریعت کوئی قباحت تو نہیں ہے؟ بعدہ اذان کے اختتام پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا کیا ہے؟

جواب

اذان موسیقی ترنم کے ساتھ دینا جس سے اصلی حروف میں زیادہ کھینچ تان ہو جائے منع ہے، خلاف سنت ہے ایسی اذان کا جواب بھی لازم نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو