الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

الصلوۃ خیر من النوم کا قصدا دو ٹکڑوں میں پڑھنا

سوال

ہمارے محلہ میں ایک حافظ صاحب صبح کو اذان پڑھتے ہیں، تو وہ ”الصلوة“ پڑھ کر قصدا سانس توڑ دیتے ہیں، اور پھر خیر من النوم“ پڑھتا ہے، وہ یہ کہتا ہے کہ یہ سانس توڑ نا سنت رسول ہے، اور بڑا ثواب ملتا ہے؟

جواب

اس مؤذن کا یہ طریقہ غلط ہے، اور اس کو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہنا بڑی غلطی ہے، ” الصلوۃ خیر من النوم کے دوٹکڑے نہ کئے جائیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو