کلمات اذان میں فصل وصل
سوال
ہمارے یہاں اذان سننے کے بارے میں سخت اختلاف ہو چکا ہے یعنی ایک شخص نے اذان کہتے وقت اللہ اکبر کے کلمہ کو ایک سانس میں دو مرتبہ نہ کہا ہر کلمہ کو چار مرتبہ علیحدہ علیحدہ کہ دیا تو اس پر بعضوں نے کہا کہ اس کی اذان درست نہیں بعض نے کہا کہ درست ہے اس پر سخت جھگڑا ہو گیا۔ حقیقة یہ اذان درست ہوئی کہ نہیں؟
جواب
شروع اذان میں جب مؤذن چار مرتبہ اللہ اکبر کہتا ہے تو اس کو چار آواز سے علیحدہ علیحدہ نہیں کہنا چاہیے بلکہ دو آواز سے کہنا چاہیے یعنی ایک آواز میں دو مرتبہ اللہ اکبر کہے: هکذا فی الطحطاوی تاہم اگر سانس کم ہو اور ایک سانس میں دو مرتبہ نہ کہہ سکے تو ایسی طرح کہے کہ جس سے دو مرتبہ اللہ اکبر میں اتنا فصل نہ ہو جتنا چار مرتبہ میں ہوتا ہے اسطرح اذان درست ہو جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔