الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سود کا مصرف مدرسہ میں

سوال

(۱) ڈاکخانہ سے جو سود ملتا ہے اس سے مدرسہ کی ٹاٹ خریدی جاسکتی ہے یا نہیں؟ (۲) کیا اس رقم سے نادار طلبہ کے کپڑے بنوائے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ یا ان کو وظیفہ دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ (۳) کیا اس رقم سے مدرسہ کے خاک روب کی تنخواہ دی جاسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

(۱) اس کو مستحقین پر صدقہ کرنا چاہئے، ٹاٹ میں یا پردے میں خرچ نہ کیا جائے۔ (۲) درست ہے (۳) نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو