سود کی ایک صورت
سوال
گورنمنٹ نے عوام کے اوپر کھیت پر ٹیکس لگایا کہ ایک سال میں ایک بیگھہ زمین پر اتنا غلہ دینا پڑے گا، چنانچہ قانون کے مطابق غلہ لوگوں نے دیدیا اب تین سال کے بعد گورنمنٹ اس کا سود جوڑ کر جو غلہ وصول کیا تھا، اس کا سود دے رہی ہے، تو آیا اس سود کو لیا جائے یا نہیں، اگر لیا جائے تو کہاں صرف کیا جائے، اگر چھوڑ دیتے ہیں تو گورنمنٹ کے آدمی بعد اسے کھا جائیں گے، تو اس صورت میں کیا کیا جائے؟
جواب
عوام نے گورنمنٹ کو از خود غلہ نہیں دیا بلکہ اس نے اپنے جبر یہ قانون کے تحت وصول کیا، یہ لوگ غلہ دینے پر مجبور تھے، پھر گورنمنٹ اپنے قانون کے موافق کچھ زائد سود کے نام سے دے رہی ہے، تو یہ حرام سود کی حد میں داخل نہیں، اس کو لیکر اپنے کام میں لانا درست ہے، طبیعت گوارا نہ کرے تو اس کو لیکر غرباءکو دیدیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔