الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

با ہم چندہ جمع کرنے کی ایک صورت

سوال

(۱) ہمارے محلہ میں چند ممبران روپیہ رکھا کرتے ہیں، مثلاً ہر ممبر سو روپیہ ۲۰ ممبران کے دو ہزار ہو گئے، اب اس رقم پر بولی بولی جاتی ہے، جو زیادہ دیتا ہے، اس کو دیدیتے ہیں، تو اس پر بولی بولنا کیسا ہے؟ یہ سود تو نہیں ہے؟ یہ جائز ہے، یا نہیں؟ جبکہ وہ روپیہ جمع کر چکا ہے، یعنی ۱۰۰ روپیہ، تو پھر بولی بولنا کیا ضروری ہے، اس میں اختلاف ہے (۲)

جواب

(۱) یہ صورت نا جائز ہے۔ (۲) یہ صورت بھی نا جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو