قرض دیگر نفع حاصل کرنا سود ہے
سوال
زید نے عمر سے ایک ہزار روپیہ نقد اس شرط پر حاصل کیا کہ وہ اس روپیہ کو تجارت میں لگا کر عمر کو دس روپیہ ماہوار بطور منافعہ دیتا رہے گا چنانچہ زید نے چالیس ماہ تک متواتر دس روپیہ ماہوار عمر کو ادا کئے اور زید بقضاء الہی فوت ہو گیا، کوئی باقاعدہ حساب تجارت کا جس سے نفع و نقصان ظاہر ہو یا جن لوگوں کا لینا یا دینا بذمہ زید پایا جاتا ہو نہیں چھوڑا بلکہ ایک کافی رقم قرضہ کی کئی ہزار روپیہ کی زید کے ذمہ بعد اس کے فوت ہونے کے ثابت ہوئی، ورثاء زید نے اپنے متوفی عزیز کو بار قرض سے سبکدوش کرنے کے لئے قرض خواہاں سے ان کی اصل…
جواب
بظاہر زید نے جو عمر سے ایک ہزار روپے شرط مذکور پر حاصل کیا ہے، یہ قرض ہے اس صورت میں دس روپے کا منافعہ بالیقین سود ہے، جس کا وصول کرنا عمر کو حرام ہے، لہذا اس رقم کو بھی اصل رقم میں شمار کرنا واجب ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔