الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جان کا بیمہ

سوال

زندگی کا بیمہ شرعاً جائز ہے یا نہیں، آج کل ہندوستان میں بیمہ زندگی کی بہت کمپنیاں قائم ہو گئیں، جس کا قاعدہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بیمہ کرائے، تو اسے خاص وقت تک کرانا پڑتا ہے، اور ششماہی ایک مقرر رقم کمپنی کو دینی پڑتی ہے، مثلاً میں نے ۲۵ سال کی عمر میں ۲۵ برس کے واسطے اکیس روپیہ کے رقم ششماہی پر بیمہ زندگی کرایا اب مجھے ہر ششماہی میں ۲۳ کمپنی کو دینے پڑتے ہیں، اگر وقت کے ایک مہینہ بعد تک نہ دے تو کمپنی مجبور کرتی ہے، اگر ادا نہ کروں تو رقم سے نا امیدی ہوتی ہے، اور اگر کوئی شخص بیمہ کرانے کے بعد چاہے ابھی ایک ہی…

جواب

صورت مسئولہ میں عقد فاسد اور نا جائز ہے کیونکہ بیمہ کرانے والے نے جس قدر روپیہ کمپنی کو دیا ہے کمپنی اس سے زائد ادا کر دیتی ہے، تو وہ زیادتی یا بیمہ کرانے والے کی جان کے مقابلہ میں ہے، یا مال کے مقابلہ میں اول صورت میں وہ زیادتی نا جائز ہے، کیونکہ شرعاً جان متقوم نہیں، دوسری صورت میں بھی نا جائز ہے، کیونکہ یہ سود ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو