سود در سود حرام در حرام
سوال
زید کا باپ سود در سود کھانے کا عادی ہے، مادری ترکہ میں زید بھی ایک دستاویز میں حصہ دار ہے، اور سود خوار باپ کے حکم پر دستاویز کی نالش کر کے سود در سود کی ڈگری حاصل کرتا ہے، اور وصولیابی کے لئے زید اپنے باپ کے ذریعہ وکیل کر کے کاروائی وصولیابی کر رہا ہے، باوجود یہ کہ زید بالغ ہو گیا ہے، اور ذریعہ تحصیل علم دینی احکام خداوندی سے واقف بھی ہے، ایسی صورت میں زید کو خدا کے رو برو جواب دہی کرنی ہوگی یا نہیں؟
جواب
حضرت امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت تمام قرآن شریف میں سب سے زیادہ خوفناک ہے اس میں اہل ایمان کو اس آگ سے ڈرایا گیا ہے، جو کہ کفار کے لئے تیار کی گئی ہے، ”كان ابو حنيفة يقول هي اخوف آية في القرآن حيث اوعدالمؤمنين بالنار المعدة للكافرين ان لم يتقوه في اجتناب محارمه » تفسیر مدارک، ص ۱۴۱ – ج ۱ /۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔