الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پیسہ اپنے پاس سے دیگر سود کا پیسہ رکھنا

سوال

میرا معمول یہ ہے کہ جب بھی پاس بک میں سودی پیسے کا اندراج ہوتا ہے تو میں سودی رقم الگ کر دیتا ہوں، پاس بک میں اصل رقم باقی رہ جاتی ہے، مگر مجھے اس مسئلہ میں شرح صدر نہیں ہے، شبہ ہے جس کی بنیاد یہ ہے کہ بیع و شراء میں جنس تو متعین ہوتی ہے ثمن یعنی رقم متعین نہیں ہوتی، غالباً اسی طرح پڑھا ہے، اس کی نظیر یہ ہے کہ مدارس اسلامیہ کو زکوۃ کے روپے بذریعہ منی آڈر روانہ کئے جاتے ہیں وہ روپیہ تو مقامی ڈاکخانہ میں ہی رہ گیا، صرف منی آڈر فارم چلا گیا، جس سے وہاں کے ڈاکخانہ نے اپنے یہاں سے رقم کی ادائیگی کرادی، وہ زکوۃ کی رقم…

جواب

جو نظائر آپ نے پیش کئے ہیں، انکا حاصل بھی وہی ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں لیکن جس مال کو سود کہہ کر دیا جائے، خواہ وہ مال دینے والے کی ملک ہو یا نہ ہو بظاہر تو سود کا اطلاق اس پر آئے گا، جس پر لعنت کی وعید ہے، اب حاصل یہ ہوگا، کہ مال حلال کا صدقہ کیا اپنے پاس سے اور جو مال سود کے نام پر ڈاکخانہ یا بینک سے ملا جو شریعت کی نظر میں حرام اور موجب لعنت ہے، اسکو خود کھائے اس سے قلب سلیم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو