سرکاری سودی قرضه
سوال
(۱) زید کا شتکار ہے اور اپنے ہل بیل سے کاشت کرواتا ہے، اچانک اس کے بیل مر جاتے ہیں، اور وہ اپنے پاس سے بیل خرید سکنے کی گنجائش نہیں پاتا، لہذا اس کو بیلوں کے لئے سودی قرض لینا کیسا ہے؟ (۲) زید کاشتکار کے بوجہ خشک سالی کئی سالوں سے پیداوار بہت ہی کم ہو رہی ہے، حتی کہ گھر یلو اخراجات کے لئے اس کو قرض لینے کی نوبت آگئی، حالانکہ وہ اتنی زمین رکھتا ہے، کہ اگر آبپاشی وغیرہ کا معقول انتظام ہو سکے تو خاصی پیدا وار ہو سکتی ہے، چونکہ آبپاشی انتظام نہیں ہے، بریں بناء زمین افتادہ رہ جاتی ہے، اور پوری زمین نہیں ہو سکتے ہیں،…
جواب
(۲،۱) پہلی دونوں صورتوں میں سودی قرض لینے کی گنجائیش نہیں ہے، البتہ اگر انسان کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ رہے، اور بے حد درجے کی پریشانی ہو اور بلا سود قرض نہ ملتا ہو تو بقدر ضرورت سودی قرض لینے کی گنجائش ہے، ہر حالت میں خدا وند قدوس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے، اسی پر بھروسہ ہونا چاہئے، ” يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح كذافي الاشباه والنظائر، ص ۱۱۵ / (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔