سودی قرض لینا
سوال
میں پرائمری اسکول کا ماسٹر ہوں، پانچ بچے ہیں، والدہ ہیں،گھر کی ضروریات کیلئے سودی قرض لیتا ہوں، ہر وقت دل پریشان رہتا ہے حتی کہ دین کے کاموں کو بھی اچھی طرح سے نہیں ادا کر پاتا، ایسی حالت میں اپنا ذریعہ معاش ٹھیک کرنے کے لئے سرکار سے صنعتی قرضہ لے سکتا ہوں یا نہیں، جس میں کچھ سود بھی قسطوں کے ساتھ ادا کرنا پڑے گا، ایسی صورت میں میرے لئے گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب
سود لینا اور سود دینا حرام ہے، اگر گزارہ کی کوئی صورت نہ ہو تو محتاج کے لئے بقدر ضرورت سودی قرض لینے کی گنجائش ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔