الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سرکاری سودی قرض

سوال

سوال نمبر ۱: حکومت ہند بطور قرضہ کے کچھ روپیہ ورقم تجارت وغیرہ کے سلسلہ میں قرض خواہ کو دیتی ہے، پھر حکومت اس روپیہ کی واپسی کے لئے قسط مقرر کر لیتی ہے، اور اصل روپیہ سے کچھ زائد لیتی ہے، پس ایسی صورت میں ہم مسلمانوں کو لینا چاہئے یا نہیں؟ اور حکومت سے لین دین روپیہ کا اس صورت میں کیسا ہے؟ (۲)

جواب

(۱) یہ سود ہے اور سود کا لینا بھی حرام ہے، دینا بھی حرام ہے، جس کا گذارا بغیر اس قرض کے ہو سکتا ہے، وہ ہرگز قرض نہ لے۔ (۲) سامان کی دو قیمتیں تجویز کر لی جاویں، ایک نقد کی، دوسری اُدھار کی پھر خریدار سے دریافت کیا جائے، کہ آپ کس طرح خریدیں گے، نقد یا اُدھار پھر جو صورت وہ بتائے اس کے موافق اس کو قیمت بتادی جائے اور اُدھار کی صورت میں مدت متعین کر لی جائے، اگر خریدار اس مدت میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو